کووڈ وبا میں سے کامیابی سے گزرنا- ایک کی-ورکر (اہم کارکن) کی تجاویز

صوبا ایک ڈاکٹر، انسان دوست اور پاڈکاسٹر ہے جس نے ایک کی-ورکر کی حیثیت سے عالمی وبا کے دوران اچھی ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی پانچ اہم تجاویز پیش کی ہیں۔

کورونا وائرس وبا کے دوران مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن ذہنی صحت کے متعلق قومی ردعمل کا ایک حصہ ہے۔ ہمیں محفوظ رکھنے کے لیے تیار کردہ حکومتی مشورے کا مستقل جائزہ لیا جاتا ہے اور آپ جہاں رہتے ہیں اُس کے لحاظ سے مختلف لوگوں کے لیے یہ مختلف ہو گا :  مزید تفصیلات اور تازہ ترین معلومات یہاں ہیں ۔

کی-ورکرز ہمیشہ ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں، جسے گذشتہ مارچ میں کورونا وائرس وبا نے مزید نمایاں کیا۔ سوشل کیئرورکرز،  نرسیں ، ڈاکٹر، فارماسسٹس، سپرمارکیٹ ورکرز اور بس ڈرائیور ان میں سے چند ایک ہیں جو سب پچھلے سال کے دوران غیر معمولی دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ طویل اوقات، زیادہ طلب، اور گھر سے دور کام کرنے کی ضرورت کی وجہ سے کی-ورکرز سے وابستہ توقعات اُن کے لیے ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے  مشکل رہی ہیں۔

عالمی وبا کے دوران کی-ورکرز کو اپنی ذہنی صحت برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے یہ پانچ اہم تجاویز ہیں:​

 

1) اپنے آپ کو آرام دینے کی صلاحیت پیدا کریں

یہ غیر معمولی اوقات ہیں، چنانچہ اپنے آپ کو کے-ڈراموں، ریئیلٹی ٹی وی، یا دستاویزی فلموں کو دیکھنے کے لیے وقت دینا ٹھیک ہو سکتا ہے۔ میں عام طور پر اپنا چھٹی کا دن 20-پوائنٹ ٹو-ڈو لسٹ کے کاموں کو تیزی سے کرنے میں گزارتی تھی، تاہم، اگر میں اپنے آپ کو آرام کی اجازت دیتی ہوں تو میں نے اپنی ذہنی اور جسمانی صحت میں فرق محسوس کیا ہے ۔ 

مستعدی سے آرام کرنا بہت ضروری ہے اور آرام کے اوقات میں سوچے ہوئے خیالات، ہونے والے احساسات اور کیے گئے فیصلے ہی ہمیں اپنی سرگرمیوں میں کامیاب کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو پیداواری صلاحیت (پروڈکٹوٹی ) کے آس پاس سے آزاد کرنے اور اس سے متعلقہ اپنی توقعات میں اور مجھے کیا کرنا چاہیے میں کمی کرنے سے بہت تبدیلی آئی ہے۔

پرسکون سرگرمیوں میں دیر تک نہانے سے لے کر بستر میں بیٹھ کر نیکش شُکلا کی تازہ ترین کتاب پڑھنے تک کچھ بھی شامل ہوسکتا ہے۔

2) سارا دن اپنے جسم کو حرکت دینے کی کوشش کریں

اگر آپ کچھ بھی مجھ جیسے ہیں تو جسمانی اور ذہنی طور پر تھکا دینے والے دن کے بعد   ورزش  آخری چیز ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں، جب کہ باہر تاریکی اور موسم خراب ہو۔ پہلی لہر میں میں گھر پر کی جانے والی ورزش کے چیلنجز پر توجہ مرکوز کرتی تھی لیکن نائٹ شفٹس آ جاتی تھیں اور میں لازمی طور پر آہستہ آہستہ کم کر دیتی تھی۔

چنانچہ میں نے اپنی روز مرہ کی زندگی میں حرکت کرنے کی راہیں تلاش کر لی ہیں اور میرے لیے یہ چلنا پھرنا اور رقص ہے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میں چل کر کام پر جا سکتی ہوں اور ایک بھاری شفٹ کے بعد اپنے ذہن کو صاف کرنے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے، مجھے سانس لینے کا موقع ملتا ہے اور گھر پہنچنے سے پہلے چیزوں کے متعلق سوچنے کا وقت مل جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے دوستوں کے ساتھ رقص کے لیے باہر نہ جانے کو اتنا ہی محسوس کرتے ہیں جتنا میں کرتی ہوں تو پھر میرے ساتھ شامل ہوکر فیس ماسک پہن کر، اپنی پسندیدہ دھنوں کو چلاتے ہوئے اور اپنے پاجامے میں اپنے گھر میں ادھر ادھر رقص کرتے ہوئے کھیل کھیل میں یہ روپ دھاریں کہ آپ 90 سیکنڈ کی مزاحیہ رومانوی فلم کے سلسلے کے شروع پر ہیں۔   یہ کوئی 10 ہزار میٹر کی دوڑ نہیں ہے، یہ شدید HIIT ورزش نہیں ہے، یہ طاقت کی ٹریننگ نہیں ہے لیکن میں اس کے لیے بہت بہتر محسوس کرتی ہوں، یہ میرے لیے پائیدار ہے اور یہ بات ہی اہم ہے۔ 

اگر آپ کوئی ایسا کام نہیں کر رہے ہیں جس سے آپ لطف اندوز ہوں تو آپ اس پر قائم نہیں رہیں گے۔ آپ کا جسم جس طریقے سے چاہتا ہے اُسے اُسی طریقے سے حرکت کے لیے وقت دیں- چاہے آپ وزن اٹھانا پسند کرتے ہیں یا صرف تیس منٹ فی دن باہر فطرت میں چلنا پسند کرتے ہیں.

3) معاشرتی وقت سے لطف اٹھائیں لیکن اپنے لیے حدود بنائیں

ہم معاشرتی حیوان ہیں اور آئیسولیشن (تنہائی) اس عالمی وبا کا سب سے مشکل حصہ رہا ہے۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میں جسمانی طور پر کام پر جاتی ہوں اور لوگوں کے ساتھ اور اُن کے آس پاس کام کرتی ہوں۔   تعلقات برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے لیکن عالمی وبا کے دوران اہم ہے۔

تاہم، تمام کی-ورکرز دوسرے لوگوں کے ساتھ کام نہیں کرتے، یا ایسے  لوگوں کے ساتھ کام نہیں کرتے ہیں جن کے ساتھ اُن کا آپس میں اچھا سلوک ہو۔ کچھ  لوگ گھروں میں دوسروں کے ساتھ رہ سکتے ہیں جن سے وہ کام پر ایک لمبے دن کے بعد بات کر سکتے ہیں، اور دیگر لوگ ہو سکتا ہے کہ اکیلے رہتے ہوں۔  اگر یہ معاملہ ہے توپھر اپنے دوستوں یا خاندان کے ساتھ فیس ٹائم یا زوم پر بات کرنے کے لیے وقت نکالنے کی کوشش کریں۔ 

میں یقینی طور پر پریشر کُکر کی طرح محسوس کرتی ہوں جب کچھ عرصہ گزر گیا ہو اور میں کسی کے ساتھ نہ ہنسی ہوں یا اظہار خیال نہ کیا ہو۔  تاہم، ڈیجیٹل طور پر مستقل طور پر دستیاب رہنا بھی بھاری محسوس ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کو اپنے لیے وقت کی ضرورت ہے تو اپنا فون بند کریں اور اپنے پیاروں کو بتائیں کہ آپ کو اپنے آپ پر توجہ دینے کے لیے کچھ وقت کی ضرورت ہے۔ 

دوسروں کے ساتھ منسلک محسوس کرنے کے لیے سوشل میڈیا ایک بہت اچھا ذریعہ ہے، لیکن حدود کے اندر رہتے ہوئے اسے استعمال کرنے کا  طریقہ تلاش کرنا اہم ہے۔ اگر کوئی بھی چیز جو آپ دیکھ رہے ہیں آپ پر منفی اثر ڈالتی ہے تو اسے خاموش کردیں، اسے فالونہ کریں یا حتیٰ کہ اگر آپ کو ضرورت ہو تو ایپس کو حذف (ڈیلیٹ) کردیں - ایسا کرنے سے سوشل میڈیا کے ساتھ میرا تجربہ بہت بہتر ہوگیا ہے۔ 

4) پرانے مشاغل کو برقرار رکھنے یا نئے شروع کرنے کی کوشش کریں

ٹیلیویژن دیکھنے کے بارے میں میرے ابتدائی بیان کے برعکس، ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں آپ کا دماغ اب ٹی وی کو نہیں سمجھ سکتا اور آپ کو تفریح ​​کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی ایسا مشغلہ اپنانا جس سے آپ لطف اندوز ہوتے ہوں اور پرسکون ہوجاتے ہوں انتہائی اہم ہے۔ میرے لیے وہ گانا رہا ہے۔ چاہے وہ یوٹیوب سے کیری اوکے کے ساتھ بیلٹنگ شوٹیونز ہوں یا میرے گٹار کے ساتھ ٹیلر سوفٹ کی البمز کے ذریعے گانا گانا، یہ ذہنی دباؤ کو ختم کرنے کے لیے بہترین ہیں۔  

مشغلوں میں بیکنگ، باغبانی، پینٹنگ، DIY شامل ہوسکتی ہے - جو بھی چیز آپ کو ذہنی طور پر مدد دیتی ہے!

5) غم کو تسلیم کریں اور قبول کریں

ہم سب کے پاس  غمگین  ہونے کی وجوہات ہوتی ہیں- لوگوں سے لے کر لمحات، خوابوں اور مواقع تک۔ میرے کئی ایسے دن ہوتے ہیں جہاں میں اس بات پر ناراضگی اور مایوسی محسوس کرتی ہوں کہ عالمی وبا سے کیسے نمٹا گیا ہے، مرتے ہوئے مریضوں کی دیکھ بھال پر گھنٹوں صرف کرنے کے بعد میں اپنے پیاروں کی خیریت کے بارے میں پریشانی اور فکرمندی محسوس کرتی ہوں جو ان سے ملتے جلتے محسوس ہوتے ہیں،اپنے عزیز ساتھیوں کو کھونے کے بعد میں مایوس اور تباہ حال محسوس کرتی ہوں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  میں حیرانگی محسوس کرتی ہوں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ بھی اچھا نہیں ہے۔

ان مشکل احساسات کے ساتھ بیٹھنے سے مجھے ان کا اعتراف کرنے میں مدد ملی ہے اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ گزر جاتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے اور اگرچہ ہم ایک دوسرے سے الگ ہیں لیکن ہم بہت سے طریقوں سے متحد ہیں۔ عزیزوں کے ساتھ اس بارے میں ایماندارانہ گفتگو کرنا کہ ہم کیسے ہیں اور جب میں افسردگی یا مایوسی محسوس کررہی ہوں تو اس کا اعتراف کرنا آزادی دینے والا رہا ہے۔  اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ کے ارد گرد کوئی بھی نہیں ہے جس سے آپ اس بارے میں بات کر سکتے ہوں کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں تو برائے مہربانی مشورے اور مدد کے لیے غم سے متعلقہ کسی ہیلپ لائن  سے رابطہ کریں۔

اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو مدد کی ضرورت ہے تو، مدد مانگیں - خاموش مت رہیں اور ایسا نہ کریں کہ کچھ نہ کہیں 

انگلینڈ میں، پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے عالمی وبا کے دوران ذہنی صحت کے بارے میں واضح رہنمائی تیار کی ہے۔  

اگر آپ اپنی ذہنی صحت کے معاملے میں مدد کے لیے ایک ذاتی نوعیت کا منصوبہ تیار کرنا چاہتے ہیں تو آپ مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن کے تعاون سے تیار کردہ PHE Every Mind Mattersویب سائٹ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ 

آپ اپنی ذہنی صحت کے سلسلے میں مدد کے لیے سکاٹ لینڈ میںClear your Head اور ویلز میں Public Health Wales ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ . 

اگر آپ کو کسی سے فوری اور رازدارانہ طور پر بات کرنے کی ضرورت ہے تو آپ کسی بھی وقت 123 116 پر Samaritans کو مفت کال کرسکتے ہیں۔