لاک ڈاؤن سے نکلنے کے بعد اپنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کرنا۔

ہم میں سے بہت سے افراد کے لئے، لاک ڈاؤن کا آہستہ آہستہ نرم کیا جانا  (خواہ  وہ معاشرتی دوری کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو)  ہمیں اپنی درینہ خواہشات پوری کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے  –  دوستوں سے ملنا، کھیل کود میں حصہ لینا، فیملی کے ساتھ رابطہ کرنا یا اس کام کی طرف واپس  رجوع جو ہمیں پسند ہے۔  

لیکن ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے خوشگوار بلکہ بہت زیادہ متوقع تبدیلیاں ہماری ذہنی صحت کے لیے مشکل کا سبب بن سکتی ہیں۔

اور بہت سے دیگر افراد کے لئے ایک ایسے وقت پر لاک ڈاؤن سے باہر آنے کا امکان جب اس بارے میں سائنس کی حمایت حاصل کرنے پر ابھی تک بحث مباحثہ جاری ہے ایک حقیقی پریشانی کا سبب ہو سکتا ہے۔  اس کا اطلاق خاص طور پر ان لوگوں پر ہوسکتا ہے جن کو  وائرس کا زیادہ خطرہ ہو اور ہم میں سے وہ لوگ جنہیں ذہنی صحت کے خدشات کا سامنا ہو۔

حفاظتی پناہ میں  رہنے والے یا زیادہ خطرے سے دوچار افراد

وہ افراد جو اپنے آپ کو حفاظتی پناہ میں  رکھے ہوئے ہیں ان کے لئے لاک ڈاؤن میں نرمی کے اقدامات بہت کم ہیں تاہم حکومت جون کے آخر میں حفاظتی پناہ میں رہنے والے افراد کے لیے ہدایات پر نظر ثانی کرے گی۔

70 سال سے زیادہ عمر کے افراد، حاملہ خواتین اور طویل المیعاد بیماریوں میں مبتلا افراد کا شمار ایسے گروہوں میں کیا جاتاہے جن کو کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ لاحق ہے تاہم صرف چند ایک افراد ہی کو حفاظتی پناہ میں رہنے لئے کہا گیا ہے۔

تاہم ان کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ وائرس سے وابستہ  خطرے کو کم سے کم کرنے کے لیےاپنا زیادہ سے زیادہ خیال رکھیں۔ خاص طور پر ان گروہوں کے لیے اپنی زندگیوں کو کافی طویل عرصے تک "معمول'' کی طرف پلٹتا ہوا دیکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ 

لہذا لاک ڈاؤن کے سبب ہماری ذہنی صحت کو درپیش مشکلات کہاں ہیں اور ہم ان کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں؟

ذہنی صحت کی مشکلات کیا ہیں اور ہم کیا کر سکتے ہیں؟

 

ہمیں اس حقیقت کے لیے تیار رہنا چاہئے کہ لاک ڈاؤن کا خاتمہ ہمارے لئے اتنا ہی مشکل ہوسکتا ہے جتنا کہ اس کا آغاز تھا۔

جس طرح لاک ڈاؤن کے دوران مقابلہ کرنے کے طریقے ڈھونڈنے پر ہمیں وقت لگا ہے اسی طرح ہمیں یہ توقع بھی کرنی چاہئے کہ واپسی کا راستہ تلاش کرنے اور زندگی سے دوبارہ جڑنے پر بھی وقت لگے گا۔

ذہنی صحت کے بارے میں ہماری تجاویز    معمولات کی طرف واپسی،  وابستہ رہنے، موزوں خوراک استعمال کرنے، اور ورزش کرنے کے بارے میں ذہنی صحت سے متعلق  تجاویز کا اطلاق اسی حد تک ہوتا ہے جتنا کہ لاک ڈاؤن کے ابتداء میں کیا گيا تھا – بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ کیونکہ جب ہم زیادہ تناؤ کے دور میں رہتے ہیں تو ہم سے تقاضا بھی زیادہ کیا جاتا ہے۔

چونکہ ہمارے حالات ہمارے لیے منفرد ہیں لہذا یہ امر اہمیت کا حامل ہے کہ دوسرے لوگ جو بھی کریں گے ہم ان کے حالات کو اپنے اوپر سختی سے مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ہر ایک شخص کو غیر یقینی صورتحال اور چیلنج کا سامنا ہے  –  اور ہمارے پاس اس کے سوا  مزید کوئی چارہ نہیں کہ  جتنا ممکن ہو سکے ہم اس سے اتنی  ہی اچھی طرح سے  گزر جائیں ۔  

خوف و اضطراب

خوف و اضطراب ممکنہ طور پر وہ مشترکہ جذباتی رد عمل ہو سکتا ہے جو کہ ہم میں سے ہر کسی کو اس وقت محسوس ہو گا جب ہم لاک ڈاؤن سے رہائی پانے کے قریب پہنچ جائیں گے۔  لاک ڈاؤن کے اندر سےاپنے آپ کو کھینچ کر   راستہ تلاش کرنے پر ہمیں بہت زیادہ جذباتی توانائی صرف کرنا پڑی ہے اور شاید ہم نے ایک ایسا مقام حاصل کر لیا ہے جو کہ ہمیں مقابلے کے لیے تیار کرتا ہے اور یہ کہ ہم فی الوقت پیچھے نہیں رہنا چاہتے۔

ہم میں سے بہت سےلوگ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ وہ وائرس سے بیمار ہوجائیں گے یا اپنے پیاروں کو انفیکشن منتقل کردیں گے کیونکہ جب لوگوں کے درمیان میل جول  شروع ہوتا ہے تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ مکمل طور پر ایک عام ردعمل ہے لیکن ہدایات پر عمل کرکے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

جب ہم ہر بار کسی چیز کی طرف واپس جاتے ہیں تو یہ غیر معمولی یا یہاں تک کہ خوفناک محسوس ہوتا ہے۔ ہم گھبراہٹ یا پریشانی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہم نے یہ کام کافی عرصے تک نہیں کیا اس لیے ہم بھول گئے ہیں کہ کیسا محسوس ہوتا ہے  –  مثال کے طور پر کام پر واپسی، ممکن ہے کہ عالمگیر وبائی مرض کی وجہ سے چیزیں بدل گئی ہوں اور معمولات بدل چکے ہوں  –  جیسا کہ دکانوں میں داخل ہونے کے لئے یکطرفہ نظام اور قطاریں۔

یہ تسلیم کرنا اہمیت کا حامل ہے کہ یہ احساسات معقول ہیں اورہم  ان کی توقع کریں۔  صرف نرم انداز میں  رواداری پیدا کرنے کے ذریعے ہی ہم ان  فِکرمَندیوں سے باہر نکل سکتے ہیں۔

ہم دیگر اقسام کے رویوں پر ناراضگی یا مایوسی کا اظہار  کرسکتے ہیں اور فیصلے میں جلدی کرنے یا سوشل میڈیا پر تبصرے کرنے کی ایسی خواہش محسوس کر سکتے ہیں جو ہماری پریشانی کی عکاسی کرتی ہو۔ جن لوگوں پر ہم اعتمادکرتے ہیں ان کے ساتھ اپنے خدشات پر تبادلہ خیال کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ آپ دوسروں کے طرز عمل کو قابو  میں نہیں رکھ سکتے اور یہ کہ آن لائن تبصرہ کرنا فوری طور پر ناخوشگوار تعلقات کا سبب بن سکتا ہے۔

اگر آپ جلدی کے ساتھ اور نجی طور پر اپنی مایوسی کا اظہار کسی ایسے شخص کے  سامنے کر سکتے ہوں جس پر آپ کو بھروسہ ہو  اور اس  کے بعدآپ اس کو  بھول جائیں۔ اگر ہم چیزوں کے ساتھ چپکے رہیں تو افواہوں کی طرف راغب ہوسکتے ہیں  –   جب ہم  اپنے دماغ  میں بار بار  سو‎چیں لاتے ہیں۔

عالمگیر وبائی مرض نے ہم میں سے بہت سے لوگوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے یا ہماری دماغی صحت کے موجودہ مسائل کو مزید ابتری میں مبتلا کردیا ہے۔ ضروری تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے پر زیادہ وقت لگ سکتا ہے – مثال کے طور پردکانوں میں یکطرفہ نظام،  محفوظ  راستوں میں رکاوٹ رکھنا یا فیس ماسک پہننا صدمے کی بازگشت کومتحرک کر دیتا ہے یا سانس نہ لے سکنے کے احساس کی وجہ سے گھبراہٹ کے حملے ہونا۔

اگر ممکن ہو سکے تو چیزوں کو ان کی رفتار کے ساتھ اپنائیں  –  لیکن ہر روز یا چند دنوں کے بعد کوئی مختلف کام کرنے کی کوشش کریں۔ لاک ڈاؤن کے دوران جو گوشہ نشینی ضروری تھی اس پر عمل کرنا بہت آسان تھا جبکہ لاک ڈاؤن کے اختتام پر وہی گوشہ نشینی دانستہ تَنہائی کی شکل اختیار کر گئی ہے۔  چھوٹی چھوٹی خوشیوں (اور بڑی خوشیوں) کو منائیں اور کوشش کریں کہ آپکو جو کامیابی بھی ملے اسے نوٹ کر لیں۔

لاک ڈاؤن بہت سے لوگوں کے لئے نِسبتاً پرسکون اور الگ تھلگ رہا ہے۔  دوکانات، ٹریفک، ٹرانسپورٹ، اور کام پر واپس آنا حسیاتی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے  –  نظارے آوازیں یا سونگھنے کا عمل احساسات کو بوجھل بنا سکتا ہے۔  کالز، میوزک، پوڈکاسٹ یا آڈیو بکس کے ذریعے توجہ کو منتشر اور مرکوز کرنے میں مدد دینے کے لیے ہیڈ فون کا استعمال ایک اچھا طریقہ ہوسکتا ہے۔

خوف و اضطراب سے نمٹنے کی تجاویز

جو کچھ کنٹرول کیا جاسکتا ہے اس کو قابو میں رکھیں–  ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن پر آپ قابو نہیں پاسکتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کو خوف اور اضطراب لاحق ہوتا ہے –لیکن کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن کا آپ انتظام کرسکتے ہیں یا ان کا منصوبہ بناسکتے ہیں۔ آپ کو جو کام مشکل لگتے ہیں ان  کا انتظام  کرنےکےلیے ایک ایکشن پلان  بنانے سے مدد مل سکتی ہے۔

اپنے آپ کو مستقل مزاج بنائیں  –  اس بات کو تسلیم کرنا لازمی ہے کہ آپ مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ دوسروں کو اپنے آپ پر دھونس اور دباؤ ڈالنے کی اجازت نہ دیں کہ وہ آپ پر ان کاموں کے لیے دباؤ ڈالیں جو آپ نہ کرنا چاہتے ہوں  –  لیکن خود کو زیر دباؤ لانے کی کوشش نہ کریں خاص طور پر جب یہ اپنے گھر سے باہر دوستوں کے ساتھ محفوظ طریقے سے رابطہ قائم کرنے کا معاملہ ہو، قوانین اجازت دیتے ہوں اور آپ کے لئے وقت بھی صحیح ہو۔  دوسروں کو اپنے بغیر آگے بڑھنے کی اجازت دینا مشکل ہوسکتا ہے  –  ہوسکتا ہے کہ آپ کا بچہ دوستوں کو دیکھنا چاہتا ہو یا اسے کام پر واپس آنے کی ضرورت ہو لیکن آپ ایسا نہ کرسکتے/سکتی ہوں۔ اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ تشویش پر تبادلہ خیال کرنا ضروری ہے لیکن دوسرے لوگوں کو ان کی اپنی رفتار سے آگے بڑھنے کی اجازت دینا بھی لازمی ہے۔  

رواداری کو فروغ دیں – کوئی ایسا کام کرنے کی کوشش کریں جو آپ کو روزانہ یا ہر چند دنوں بعد ٹیسٹ کرتا ہو۔  اگر ایسانہ ہو سکے تو اپنے آپ کو سزا نہ دیں بلکہ اس کوشش کوجاری رکھیں۔  اپنی ان کامیابیوں کو جن سے آپ لطف اندوز یا متعجب ہوئے ہوں نوٹ کر کے رکھیں۔

اپنے معمولات میں تبدیلی لائیں  –  اپنے معمولات کو مختلف بنانے کی کوشش کریں تاکہ آپ مختلف افراد سے ملیں  اور مختلف حالات کا سامنا کریں۔ اگر آپ کسی ایک سپر مارکیٹ سے آپ گھبراتے ہوں تو دوسری کو آزمائیں۔ اگر دن کے کسی وقت چہل قدمی کرنا بہت مصروف ہوتو مصروف اور غیر مصروف اوقات کو ملا جلا کر چہل قدمی کرنے کی کوشش کریں۔

کام کے بارے میں بات کریں  –  خواہ لوگوں کو واپس جانے کی ضرورت ہی کیوں نہ پیش آئے کام کی  بہت سی جگہیں زیادہ لچکدار انداز میں کام کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ اگر آپ کے لیے پریشانی یا خوف کی وجہ سےکام تک پہنچنا مشکل ہو یا آپ کوئی مخصوص شفٹ  یا کام کرتے ہوں تو اگر مناسب محسوس کریں تو اپنے مینیجر یا کسی ایسے ساتھی سے بات کریں جس پر آپ اعتماد کرتے ہوں۔ اگر آپ ذہنی صحت کے درینہ مسائل سے دوچار ہیں یا رہ چکے ہیں توایکوالٹی ایکٹ کے تحت آپ ایک معذور شخص کی حیثیت سےمعقول ایڈجسٹمنٹ کے مستحق ٹھہر سکتے ہیں۔  یہاں تک کہ اگر آپ نے اس سے قبل  اس کو ظاہر  نہیں کیا اور اس کو اب ظاہر کرنا محفوظ لگتا ہے تو آپ ایسا کرنے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرنا

’’نئے معمول‘‘ کے بارے میں بہت زیادہ گفتگو ہوتی رہی ہے  –  لیکن معمول بدل رہا ہے اور غیر یقینی صورتحال اور خطرے کا مقابلہ کرنا مستقبل قریب میں حقیقت بننے والا ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لئے باعث اطمینان ہو خاص طور پر جب ہم صرف اپنی ہی ذہنی صحت کے ساتھ نمٹ رہے ہوں۔

ہم میں سے بیشتر افراد کے لیے ''نیو نارمل"کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں 'آج یا اس ہفتے میں کس چیز سے گزرنے کی ضرورت ہے' – یہ پیشن گوئی کرنا بہت زیادہ مشکل ہوگا کہ سال کا باقی حصہ کیسا گزرے گا، اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کی طرف سے امکانات اور مراحل کے بارےمیں بہت زیادہ بے یقینی کے ساتھ بات کرنے کی وجہ سے 'مفروضاتی' صورتحال میں پھنس جانا آسان ہو گا۔

اس کے ذریعے گزشتہ چند ایک مہینوں میں ان چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو کہ ہم نے سیکھی اور حاصل کی ہیں۔

ہم میں سے بیشتر افراد کو اس طرح کا تجربہ حاصل ہوا ہے جس کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا، ہم نے ان آزمائشوں میں کامیابی حاصل کی ہے اور نئی طرز کے انتظامی  طریقے ڈھونڈے ہیں  –  یا یہاں تک کہ خوشحالی حاصل کی ہے۔  لاک ڈاؤن نےہم میں سے بہت سے لوگوں کے لئے ہماری اقدار اور جو کچھ ہمارے لیئے اہمیت رکھتا ہے کو چیلنج کیا ہے۔ ہمارے اندر جو زندگی، اقدار اور رویے مارچ کے اوائل میں موجود تھے جولائی میں شاید جب ہم واپس جانا چاہیں تو ویسے نہ ہوں گے جبکہ ہمارے لئے اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لانے کے مواقع بھی موجود ہوں گے۔ 

حال پر توجہ مرکوز کری ں  –آپ کے پاس آج  جو کچھ موجود ہے آپ اسی کے ساتھ اپنی کوشش کر سکتے ہیں۔  باقاعدگی سے تبدیل ہوتے ہوئے ضوابط اور میڈیا کے بہت سے متنازعہ مباحثوں کے ساتھ کوشش کریں کہ حال پر توجہ مرکوز رکھیں۔  ذہنی ہوشیاری کا مراقبہ آپ کے دماغ کو موجودہ لمحے میں واپس لانے کا ایک طریقہ ہے۔

ایسی چیزیں جو یقینی ہیں ان پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کریں  –  جہاں اس وقت بہت سی چیزیں غیر یقینی ہیں ایسے معاملات بھی ہیں جن کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے۔ اچھی چیزوں کو ریکارڈ کرنے اور ان کی تعریف کرنے کی کوشش کریں۔ دوبارہ ترتیب دینے اور سکون حاصل کرنے کی کوشش کریں اور مواقع حاصل کریں۔

ان لوگوں سے بات کریں جن پر آپ کو اعتماد ہو –   اس بارے میں بات کرنا اہم ہے کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔ خود اپنی تشویش یا فیصلے کو سختی سے مسترد نہ کریں۔ آپ اپنی طرز کے لوگوں کو آن لائن بھی تلاش کرسکتے ہیں لیکن بیرونی  نقطہ نظر کو بھی آزمائیں اور دیکھیں۔

سماجی میل جول کا آغاز کرنا

لاک ڈاؤن سے ہم جونہی باہر آئیں گے تو یہ ممکن ہو سکےگا کہ ہماری معاشرتی زندگی کو دوبارہ سے شروع کیا جاسکے – مستقبل میں تبدیلیوں کے باوجود۔ ہم میں سےچند ایک ایسا کرنے کے لئے بے چین ہیں  –  جبکہ دیگر افراد ایسا کرنے سے گھبرائیں گے  –  یا اپنی صورتحال کی وجہ سے ایسا نہیں کر پائیں گے۔

اگر آپ ایک ساتھ مل کر کسی کام کو انجام دینے والےمعاشرتی گروپ کا حصہ ہیں تو ان لوگوں کے لئے طریقوں کی منصوبہ بندی کرنے کی کوشش کریں جو بالمشافہ حصہ لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

ممکن ہے کہ ہم اپنی جگہ پر اور اپنی رفاقت کے ساتھ لاک ڈاؤن مطمئن سے ہو چکے ہوں  –  یہ تمام صورتوں میں مشکل رہا ہے لہذا ہمیں لوگوں سے رابطہ قائم کرنے اور ابتدائی اناڑی پَن پر قابو پانے کے لئے خود کو واقعتا˝   اُبھارنا ہے۔ خواہ وہ دوستوں یا رشتہ داروں کے ساتھ معاشرتی دوری پر اصرار کرنے کے بارے میں آگاہی ہو، یہ جاننا ہو کہ آپ کو ماسک کہاں پہننا ہے،  یا گلی میں گفتگو کے لیے نہ رکنے کو عجیب محسوس کرنا ہو ہم میں سے بہت سے لوگ اسے درست کرنے کے خواہاں ہیں اور دانستہ غلطی کا ارتکاب کرنا۔ یہ سب کچھ نیا ہے – اور قواعد پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرنا زیادہ تر صورتوں میں کافی اچھا ہوتا ہے۔

یہ ہمارے بچوں کی دوستی کے بارے میں بھی ہے –  بہت سارے بچے اپنے دوستوں سے ملاقات کرنے کے لئے بیتاب ہوگئے ہیں لیکن تمام کنبے آنے والی ان تبدیلیوں کا احساس کر رہے ہیں اور خاص طور پر اگر وہ اسکول واپس نہیں جا رہے تو دوستیوں کو اپنانے کے لئے اضافی کوشش کرنا ضروری ہے۔

اگر ہم اپنے آپ کو خطرے سے محفوظ رکھے ہوئے ہیں یا کسی کمزور گروہ سے تعلق رکھتے ہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ جیسے جیسے ہمارے آس پاس کے دیگر افراد لاک ڈاون سے باہر آنا شروع کریں گے اور وہ ان چیزوں کا آغاز کردیں جو ہمیں یاد آتی ہیں تو ہمیں تنہائی کا زیادہ احساس ہو گا اور ہم لاک ڈاؤن کے اقدامات کو کم کرنے کے لئے دباؤ کا مقابلہ کرنے کی کم صلاحیت محسوس کریں گے۔  ایک حقیقی خطرہ یہ ہے کہ جب لاک ڈاؤن کو دوسروں کے لیے جاری کیا جائے گا تو آجر، اسکولوں کے کاروبار، دوست احباب اور کنبے کے  افراد تعلقات رکھنے اور مدد کرنے کے کم قابل ہو سکیں گے۔ لوگوں کو یہ یاد دلانے میں کافی جذباتی کوشش کی ضرورت پڑتی  ہے کہ وہ حفاظتی پناہ میں رہنے والے کسی شخص کی طرح ان قواعد میں کیوں کر حصہ نہیں لے سکتے یا ان کی پیروی نہیں کرسکتے   –  اور بہت سے لوگوں کو ادائیگی کے جرم میں جرمانہ بھی ہوتا ہے۔

یاد رکھیں کہ اس بنیاد پرکہ آپ کون ہیں اور آپ کہاں رہتے  ضوابط اور اصول مختلف ہوتے ہیں۔  آپ کیا کچھ کرسکتے ہیں اور موجودہ حدود کیا ہیں اس کے بارے میں آپ کو مزید تفصیلی تجاویز یہاں پر مل سکتی ہیں۔ https://www.mentalhealth.org.uk/coronavirus/four-nations-advice#socialising  

جب لاک ڈاؤن شروع ہوا تو ہمارے لیے کام کاج کی زندگی بہت حد تک تبدیل ہو گئی تھی  –  خواہ ہم کلیدی ورکر کی حیثیت سے کام کرتے رہے تھے، ہم نے گھر سے کام کیا، ہمیں فرلو پر رکھا گیا یا ہماری ملازمتیں ضائع ہوئیں۔ جیسے جیسے لاک ڈاؤن میں نرمی ہو گی کام سے متعلق ہماری زندگیاں دوبارہ سے  بدل جائیں گیں اور چند ایک لوگ نئے کام تلاش کر رہے ہوں گے۔

ہم میں سے بہت سے افراد کے لئے  لاک ڈاؤن سے باہر آنا کوئی اختیاری عمل نہیں ہے۔  یہاں تک کہ سرکاری مشورے کے  باوجود بھی کہ جہاں تک ممکن ہو گھر سے کام کریں ملک بھر میں لوگوں کو کام پر واپس آنے کے لئے بلایا جارہا ہے  ۔ ہم میں سے بہت سے افراد کے لئے  ایسا ممکن نہیں ہے جبکہ واپسی کا امکان اپنے ساتھ خود ہماری اپنی ذات اور فیملی سے متعلق  ممنکہ خطرات  کا جائزہ لینا،  پیسہ کمانے کی ضروریات، معیشت کو دوبارہ شروع کرنے اور/یا دوسروں کو خدمات فراہم کرنے کی ضرورت بھی شامل کیے ہوئے ہے۔  

ہم عالمگیر وبائی مرض کے دوران کام کرنے سے متعلق یہاں پر مشورے دیتے ہیں:https://www.mentalhealth.org.uk/documents/looking-after-your-mental-health-while-working-during-coronavirus  وہ افراد جن کے کام میں  لاک ڈاؤن کے کچھ حصوں میں نرمی کی وجہ سے تبدیلی رونما ہو رہی ہے  ان کے لیے چند ایک مخصوص  قسم کےمشورے 

بچوں اور کنبے کی دیکھ بھال کرنا

لاک ڈاؤن کے دوران ہم میں سے جن لوگوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں تھیں انھوں نے ہمارے اہل خانہ کی مدد کی ہے۔ والدین اور نگہداشت  کرنے  والوں کے لیے کام پر  واپسی ممکنہ طور پر ایک ایسی دوری  پیدا کر دے گی جس کی بہت زیادہ ضرورت اور خیرمقدم  ہو سکتا ہے  –  لیکن  جب لاک ڈاؤن کے دوران  بہت سے افراد کے لیے خاندانی قربت کافی مدد کا سبب بنی ہو گی  تویہ عمل بھی جذباتی طور پر دشوار ثابت ہوگا۔   والدین کے لیے  ہمارے  پاس یہاں پر مزید تفصیلی مشورے ہیں:  https://www.mentalhealth.org.uk/coronavirus/parenting-during-coronavirus-outbreak

موسم گرما کی تعطیلات تک اسکولوں کے یا تو بند ہونے یا صرف چند ایک طلباء کے لیے جزوی طور پر کھلے ہونے کی وجہ سے والدین کو بچوں کی دیکھ بھال کرنے، اسکول کے کاموں میں  ان کی معاونت کرنے اور یہ طےکرنے کہ آیا بچوں کو  اسکول بھیجنا ہے اور کب  بھیجنا ہے جیسے امورکے بارے میں فیصلہ کرنے کی طویل مدت تک ضرورت درپیش ہو گی۔  والدین اپنی بہترین کارکردگی کا اظہار  اپنے بچوں کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں – لیکن  اب بہت سے افراد پر  دباؤ  بڑھ گیا ہے کہ وہ یا تو کام پر واپس جائیں  یا پھر دوبارہ سے اپنی مصروفیت اور پیداواری عمل کا آغاز ایک ایسی سطح پر کریں جو بچوں کی ہفتے بھر کی  نگہداشی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگی نہ رکھتی ہو۔ اسکول  واپسی کے بارے میں مزید معلومات یہاں پر ملاحظہ فرمائیں: https://www.mentalhealth.org.uk/coronavirus/returning-school-after-lockdown

اس سے ملتی جلتی صورتحال بلا معاوضہ نگہداشت کرنے والوں کے لئے پیدا ہوتی ہے:  شاید وہ جس شخص کو دیکھ بھال فراہم کرتے ہوں  لاک ڈاؤن کے دوران  اس  کی جسمانی یا دماغی صحت  خراب ہوچکی ہو اور ان کی اپنی ذاتی ضروریات تبدیل ہو گئی ہوں۔  اس کا مطلب نئے جائزوں کا انعقاد کرنا اور خدمات کی فراہمی میں تبدیلی لانا ہو گا۔

شدت غم

ہم میں سے بہت سے لوگوں کو لاک ڈاؤن کے دوران شدت غم کا تجربہ ہوا ہوگا۔  بہت سے لوگوں کو  گزشتہ مہینوں کے دوران اپنے کسی قریبی عزیز  کے فوت ہو جانے کا سامنا کرنا پڑا ہو  گا جبکہ آخری رسومات میں محدود شرکت  ہونے کی وجہ سے اور غیر سماجی طور پر دوری والی رفاقت جو حال ہی میں صرف مخصوص گروہوں کے لئے دستیاب  ہوئی ہے یہ عمل دوگنی مشکل کا سبب بنا رہا ہے۔  

جب ہم لاک ڈاؤن سے باہر نکلنا شروع کریں گے تو لوگوں کو دوبارہ سے ملنا اور اپنے قریبی لوگوں کو  جو سوگوار ہوچکے ہیں مدد فراہم کرنا ممکن ہو سکے گا  حالانکہ ہمیں  فی الوقت معاشرتی طور پر لازما دور رہنا چاہئے اور  گلے نہیں لگنا چاہیے   –  جب تک کہ آپ پارٹنر کے بغیر نگہداشتی ذمہ داریاں نہ رکھتے ہوں اور بچوں کی عمر 18 سے کم  ہو ، یا اکیلے رہنے والے ایسے شخص ہوں  جس نے ایک دوسری فیملی کے کے ساتھ 'ببل' تشکیل دیا ہو۔ نقصان اور سوگ سے نمٹنے کے بارے میں ہماری معلومات آپ یہاں پر ملاحظہ کرسکتے ہیں: https://www.mentalhealth.org.uk/coronavirus/change-loss-bereavement

This translation was funded by Foundation Scotland and the National Emergencies Trust and distributed by the Scottish Refugee Council.