کورونا وائرس کے دوران تنہائی

کورونا وائرس کے موجودہ عالمگیر وبائی مرض کے دوران ہم میں سے لاکھوں افراد جن احساسات کا سامنا کر رہے ہیں ان میں سے ایک تنہائی ہے۔ محفوظ رہنے اور جانیں بچانے کی مشترکہ کوششوں کے دوران ہمارے لیے اپنے کنبے کے افراد، دوستوں یا  واقف چہروں کو دیکھنے کے طریقہ کارمیں توقف آ گیا ہے۔ 

تنہائی ہماری ذہنی صحت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟   

بعض اوقات ہم میں سے بہت سے افراد تنہائی محسوس کرتے ہیں لہذا ہماری ذہنی صحت کو ان قلیل مدتی احساسات سے  نقصان نہیں پہنچنا چاہئے۔ تاہم، یہ عالمگیر وباء جس قدر طول پکڑتی ہے یہ احساسات زیادہ طویل مدت کے ہوں گے۔  

طویل مدت کی تنہائی ذہنی صحت کی چند ایک پریشانیوں میں اضافہ کر سکتی ہے، جن میں افسردگی، اضطراب اور تناؤ شامل ہیں، ۔  ذہنی صحت پر مرتب ہونے والے طویل مدتی تنہائی کے اثرات کو سنبھالنا بہت زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔  

ہم تنہائی کی روک تھام کے لئے کیا کچھ کر سکتے ہیں؟  

 ہمیں اس وقت لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کے لئے نئے نئے طریقے تلاش اور اختیار کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم ان مضبوط سماجی نیٹ ورکس کو، جو کمزور ذہنی صحت کے خلاف دفاع کا کام کرتے ہیں،  برقرار رکھ سکیں۔  

بذریعہ ویڈیو یا فون کال رابطے میں رہنا بہت ضروری ہے۔ جہاں ممکن ہو  روز مرہ معمولات جاری رکھیں - مثال کے طور پر اگر آپ ہفتے میں ایک رات کو دوستوں کے ساتھ تاش کھیلتے ہیں تو اس اپنی کو ڈائری میں رکھیں اورایسا کرنے کے بجائے ویڈیو کال پر گیم کھیلنے کی کوشش کریں۔ یا ممکنہ طور پر فیس بک یا یو ٹیب پر دستیاب بہت سے آن لائن  کوئزیز میں شامل ہو جائیں جنہیں آپ بطور ٹیم کھیل سکتے ہوں۔  

اگر آپ فنی مہارت نہیں بھی رکھتے تو بھی باقاعدہ فون کالز، پیغامات یا یہاں تک کہ کسی کو خط لکھ کر  یہ بتانے کے خوبصورت طریقے موجود ہیں کہ آپ ان کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔  

وہ افراد جو شاید تنہائی کا سامنا کر رہے ہوں ان کی مدد کرنا  

آپ کسی ایسے شخص کی خیروعافیت کے بارے میں معلومات کے لیے جو تنہا رہتا ہو رابطہ کر سکتے ہیں۔ ایک ایسےشخص کے لیے جس نے کافی عرصے تک کسی سے بات نہ کی ہو ایک پیغام یا فون کال بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے۔  

اگر یہ کوئی ہمسایہ ہو تو آپ اس کے ساتھ بھی کسی چیز کا تبادلہ کر سکتے ہیں - محفوظ فاصلے پر رہتے ہوئے! اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہوں جسے ٹیکنالوجی کے استعمال میں مشکل کا سامنا ہو تو گھر پر زوم یا اسکائپ جیسی کوئی چیز لگا کر اس شخص کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے یہ ایک بہترین وقت ہے۔   اس سے مستقبل میں ان کے سماجی رابطوں پر بہت فرق پڑ سکتا ہے۔

یہ صرف آپ ہی نہیں ہیں   

اس دور میں تنہائی کے احساس سے کسی کو بھی چھٹکارہ  حاصل نہیں ہے۔ اپنے پیاروں سے کٹ جانے کا احساس کوئی بھی محسوس کر سکتا ہے، لیکن ہم میں سے چند ایک افراد کو دوسروں کی نسبت ٹیکنالوجی تک زیادہ رسائی حاصل ہو سکتی یا ہمارے معاشرتی رابطے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔  

ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرکے،  زیادہ الگ تھلگ رہنے والے افراد کا مشاہدہ کر کے یا یہاں تک کہ رضاکارانہ طور پر بھی ہم تنہائی کی وباء کو روکنے میں مدد دے سکتے ہیں۔  

اگرآپ تنہائی محسوس کر رہے ہوں تو کیا کریں؟  

  • اپنے احساسات کے بارے میں بات چیت کرنے کے لئے کسی دوست، کنبے کے کسی فرد، صحت کے بارے میں کسی پیشہ ور شخص یا کونسلر کو فون کرنے کی کوشش کریں۔  
  • اگر آپ کو کسی کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہو توان کے ساتھ بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔ اسمارٹیئنز[Samaritans] کو 123 116پر فون کریں یا ای میل کریں [email protected]  
  • بریدینگ اسپیس[Breathing Space] : 87 85 83 0800 
  • کسی آن لائن گروپ یا کلاس میں شامل ہو جائیں جس میں آپ دلچسپی لیتے ہوں  - جو کہ آن لائن ورزش کی کوئی کلاس یا بک کلب وغیرہ ہوسکتا ہے۔  
  • مختصر سی سیر کے لئے (معاشرتی دوری کو برقرار رکھتے ہوئے) عوامی مقامات پر جانےکے بارے میں غور کریں ۔  

یہ ایک مشکل اور کبھی کبھی تنہائی کا سامنے کرنے والا وقت ہے لیکن یہ گزر ہی جائے گا۔ چلیں ہمیں اس وقت بذات خود اپنے اور دوسروں کے ساتھ  زیادہ سے زیادہ شفقت سے پیش آنا چاہیے۔

This translation was funded by Foundation Scotland and the National Emergencies Trust and distributed by the Scottish Refugee Council.