طویل کوویڈ – شیرین کی کہانی

عالَمگیر وبائی مرض ہر کسی کے لیے ایک چیلنج رہا ہے، تاہم، جیسے جیسے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی آ رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین دی جا رہی ہے مستقبل کے بارے میں ہم میں سے بہت سے لوگ پُر اُمید ہوسکتے ہیں۔ البتہ طویل عرصے سے کوویڈ سے متاثرہ افراد کو سرنگ کے آخر میں روشنی مزید دور دکھائی دے سکتی ہے۔  

او این ایس کے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں مارچ 2021 میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد طویل کوویڈ کے اثرات کا شکار تھے۔ اگرچہ علامات مختلف ہوسکتی ہیں لیکن بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ یہ علامات فطری طور پر سنگ دِل ہیں اور ان میں بے دم ہوجانا، مستقل کھانسی، سینے میں درد، دائمی تھکاوٹ، پٹھوں میں درد، بھوک کا فقدان، ذائقے اور سونگھنے کے احساس کا ختم ہو جانا اور الجھن شامل ہیں۔ طویل کوویڈ کی وجہ سے جسمانی علامات پر قابو پانا کافی مشکل ہے لیکن دماغی صحت پر اس کا اثر انتہائی ہی شدید ہے اور اس کو صورتحال کے بارے میں محدود سوجھ بوجھ نے مزید دشوار بنا دیا ہے۔  

شیرین کی کہانی

مارچ 2020 میں پہلی بار گلاسگو کی رہائشی 38 سالہ شیرین کورونا وائرس کے حملے کا نشانہ بنی تھی جس کی وجہ سے اس کو ہسپتال جانے کی ضرورت پیش آئی تھی۔ 
شیرین: "میں اس قدر بیمار تھی کہ مجھے لگتا تھا جیسے مرجاؤں گی۔ جب میں معائنہ کروانے کے لئے ہسپتال پہنچی تو مجھے ایک ویٹنگ روم میں بٹھا دیا گیا جہاں پر کوویڈ کے شبہ میں بہت سے دیگر افراد بھی موجود تھے۔ مجھےیاد ہے میرے ذہن میں خیال آیا کہ اگر میں اس سے متاثر نہیں ہوں مگر جب میں واپس جاؤں گی تو متاثر ہو کر جاؤں گی۔ میں جب ڈاکٹر سے ملی تو اس نے کوئی پی پی ای نہیں پہنی ہوئی تھی اور میں اس کے لیے بہت زیادہ پریشان اور خوفزدہ تھی کہ میں اس کو متاثر کر دوں گی۔ یہ وہ ایک سوچ تھی جو بعد میں ہفتوں تک میرے ذہن میں چلتی رہی تھی۔   
اُس وقت معمول کے جائزے سے قبل تشخیص ہونے پر شیرین کو شہر کے وسط میں واقع اُس کے فلیٹ میں بھیج دیا گیا تھا جہاں پر وہ اکیلی رہتی ہیں۔  
 
اس نے جاری رکھا: "کوویڈ کی علامات اذیت ناک ہیں۔ میں عام حالات میں ایک بہت ہی خود کفیل اور لائق شخص ہوں لیکن مجھے ایسا محسوس ہوا جیسا کہ میں نے کسی جنگی علاقے کا دورہ کیا ہو۔ جسمانی درد تو درکنار میں نے اپنے اندر منفی رجحان محسوس کیا۔ میں دیگر افراد کو متاثر کر دینے کے خطرے سے بخوبی آگاہ تھی لہذا میں نے الگ تھلگ رہنے کو یقینی بنا لیا تھا یہاں تک کہ لیٹر باکس کو بھی پلاسٹک کے تھیلے سے ڈھانپ دیا تھا۔ میں نے اپنی ابتدائی بیماری کے بعد اُمید کی تھی کہ میری صحت کی صورتحال بہتر ہو جائے گی لیکن اس کے بعد دوبارہ سے بیماری کے دورے پڑے ہیں۔ پہلا دورہ تین ہفتوں کے بعد پڑا تھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے میرے پھیپھڑوں سےکھرِنڈ اُکھڑ رہی ہو؛ یوں لگا جیسے اُنہیں آگ لگ گئی ہو۔ پھر اس کے بعد مجھے اسی ہسپتال کے ریسپریٹری کلینک میں جانے پر جہاں پر میں پہلی بار کوویڈ ہونے کے بعد گئی تھی چھ ماہ لگے۔ میں دوبارہ سے وہاں پرموجود ہونے کی وجہ سے بہت پریشان تھی، اس سے مجھے گھبراہٹ کے دورے پڑے تھے۔"
 
اگرچہ شیرین اب بھی طویل کوویڈ کے اثر کو محسوس کررہی ہیں لیکن اس کے دورے پہلے کی نسبت کم ہوتے ہیں۔ تاہم، اب اس کی زندگی پہلے کی نسبت زیادہ خاموش ہے کیونکہ وہ تھکن اور تھکاوٹ کا شکار رہتی ہے۔ وہ مناسب آرام کی پیشگی منصوبہ بندی کیے بغیر مکمل طور پر نڈھال ہو جانے سے بچنے کے لیے بیس منٹ سے زیادہ چل نہیں سکتی یا دیر تک گفتگو نہیں کرسکتی۔ وہ اب بھی پٹھوں اور جوڑوں کے درد میں مبتلا ہے جس کے لیے اسے اعصابی درد کی دو دوائیں استعمال کرنا پڑتی ہیں اور فزیوتھراپسٹ کے پاس جانا پڑتا ہے۔ 
 
کوویڈ سے بیمار ہونے سے قبل شیرین ایک گلوکارہ تھیں اور وہ نئےکپ کیکس فروخت کرنے  والے کاروبار کا آغاز کرنے کے لیے بھی تیار تھیں۔ ان دونوں کاموں کو غیر معینہ مدت کے لئے روکنا پڑا ہے اور وہ فی الحال بے روزگار ہیں۔  
 
شیرین نے کہا ہے:"اس سنگ دِل صورتحال کے ساتھ رہتے ہوئے میں اپنے آپ کو ذہنی طور پر پرسکون محسوس نہیں کرتی۔  یوں لگتا ہے کہ اپنے بارے میں میرے احساس کو ہر چیز متاثر کرتی ہے اور میں ہر وقت مختلف محسوس کرتی ہوں۔ اس سے نمٹنا واقعی میں مُشکل ہے کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں دوبارہ سےکبھی نارمل محسوس کروں گی یا نہیں۔ جب آپ بہتر ہونا چاہتے ہوں تو یہ آپ کو جذباتی طور پر متاثر کرتا ہے اور میں ہر وقت مزید دورہ پڑنے کے بارے میں متفکر رہتی ہوں کیونکہ میں اکثر اوقات اپنے آپ سے پوچھتی ہوں 'میں مزید ایسا نہیں کر سکتی'۔"
 
"چونکہ مجھے معلوم تھا کہ کچھ غلط ہے میں نے اگست میں کونسلنگ [ماہِرانہ راۓ دہی] کی درخواست کی۔ باوجودیکہ میں بیماری کی اذیت سے چھٹکارہ پا رہی تھی لیکن ایک خوفناک احساس مستقل طور پر میرے دامن گیر تھا۔کونسلنگ سے مدد مل رہی ہے۔ عام طور پر میں اپنے جذبات کا اظہار کھل کر نہیں کرتی، یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی، لیکن کوویڈ نے میرے اندر کی کسی چیز کو بکھیر کر رکھ دیا تھا لہذا نمٹنے کے بارے میں میرا معمول کاطرز عمل کام نہیں کر رہا تھا۔ کونسلر نے میرے جذبات اور ان سے میرے تعلق کی شناخت کے لیے میرے ساتھ مختلف ورزشیں کروائیں۔ مثال کے طور پر قطع تعلقی کے اسلوب مثلا˝ مجھ سے احساس کو ایک رنگ کی طرح بیان کرنے کا کہنا۔"
 
"کونسلنگ سے مدد مل رہی ہے۔ عام طور پر میں اپنے جذبات کا اظہار کھل کر نہیں کرتی، یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی، لیکن کوویڈ نے میرے اندر کی کسی چیز کو بکھیر کر رکھ دیا تھا لہذا نمٹنے کے بارے میں میرا معمول کاطرز عمل کام نہیں کر رہا تھا۔"
 
"میں اپنی ایک دوست جو کہ ایک نرس ہے اور اس کے کبنے کے ساتھ ببل [امدادی حلقہ اثر] میں ہوں لیکن گزشتہ سال میں نے ان سے صرف چار بار ملاقات کی ہے۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ ویڈیو کالز پر بھی بات چیت کرتی ہوں لیکن مجھے اس امر کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ میں اچھی طرح سے آرام کروں اور میرے اندر اس کے لیے توانائی بھی موجود ہو۔ اس کے علاوہ میرے لیے لانگ کوویڈ فیس بک گروپ  پر لوگوں سے چیٹنگ کرنا واقعی مددگار ثابت ہوا ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ جو حقیقت جانتے ہیں کہ آپ پر کیا بیت رہی ہے اور اچھے خیالات کا اظہار کرتے ہیں بات چیت کرنا بہت اچھا ہوتا ہے۔ میں نے اسی وجہ سے ایک نجی فیس بک گروپ بھی قائم کیا ہوا ہے جس پر ہر چیز کے بارے میں باقاعدگی سے بات چیت ہوتی ہے – زندگی، علامات اور مستقبل کے خواب۔ میں جانتی تھی کہ ایسے لوگ موجود ہوں گے جو قابو پانے میں مشکل کا سامنا کر رہے ہوں گے لہذا میں چاہتی تھی کہ ہر کوئی یوں محسوس کرے جیسے وہ تنہا نہیں ہے۔ ہم سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اس انداز سے موجود ہیں کہ شاید ہمارے دوست اور کبنے بھی نہیں ہو سکتے۔"
 
دیگر عمل جو میں اپنی ذاتی ذہنی صحت کے لیے کرتی رہی ہوں ان میں ین یوگا، مراقبہ، موڈ ڈائری رکھنا اور تخلیقی تحریریں شامل ہیں۔"اگرچہ میرا بائیاں بازو کام کرتا ہوا نہیں لگتا اور میں کھَبّی ہوں لہذا مجھے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھنا پڑتا ہے۔ 
 
مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے شیرین پُر اُمید ہے کہ اس کو جلد ہی یہ ویکسین لگ جائے گی جو کہ طویل کوویڈ سے متاثرہ چند ایک افراد کی علامات دور کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ 
 
جسمانی صحت اور ذہنی صحت کا آپس میں پیچیدہ  ساتعلق ہے۔ جب لوگ طویل مدتی جسمانی صحت کے حالات کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہوں تو ان کے ناقص ذہنی صحت سے متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔  

ایسے طریقے موجود ہیں جن سے آپ اپنی ذہنی تندرستی کو محفوظ رکھ سکتے ہیں:

1. اپنے آپ کو مستقل مزاج رکھیں: خود کو بہت زیادہ مُشقت میں نہ ڈالیں یا زیادہ سختی کی طرف نہ دھکیلیں۔ ایسی رفتار سے آگے بڑھیں جو آپ کے لئے درست ہو، اپنی بسات سے بڑھ کر کام کرنے کے بارے میں دوسروں کو دباؤ ڈالنے کی کوشش نہ کرنے دیں۔  
2. رابطے میں رہیں:آپ کی بسات میں جس قدر ہو سکے ان لوگوں کے ساتھ جن کے آپ قریب ہوں رابطے میں رہنے کے لئے وقت صرف کرنے کی کوشش کریں۔ ان لوگوں کے ساتھ جن پر آپ کو اعتماد ہو اپنے احساسات کے بارے میں بات چیت کریں۔آن لائن گروپس بھی ایسے لوگوں سے تعاون حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں جن کو ملتے جلتے تجربات کا سامنا ہوا ہو۔   
3. فطرت کے ساتھ وقت گزاریں: اگر آپ مہم جوئی کے لیے باہر جا سکتے/سکتی ہوں تو آپ کی ذہنی صحت کو فطرت سے مربوط رہ کر بے حد فائدہ ہوسکتا ہے۔ اگر آپ زیادہ سفر نہ کر سکتے/سکتی ہوں تو گارڈن یا گھر کے پودوں کی دیکھ بھال کر کے بھی فوائد حاصل کرسکتے/سکتی ہیں۔  
4. سکون آوری کے طریقے یا ذہنی مراقبے کو آزمائیں: این ایچ ایس کے پاس سکون آوری کے لیے آن لائن متعدد ورزشیں دستیاب ہیں جو آپ کے جسم اور دماغ کو پرسکون بنانے میں معاون ہو سکتی ہیں۔  
ہمارے کوویڈ مرکز سے مزید رہنمائی مل سکتی ہے۔