اگر آپ کو پہلے ہی سے ذہنی صحت کے مسائل درپیش ہوں تو عالمگیر وبائی مرض کے ساتھ کس طرح زندگی بسر کریں۔

خاص طور پر ہم میں سے ان لوگوں کے لئےکوویڈ-19 کی وباء مشکل ہو سکتی ہے جنہیں ذہنی صحت کے مسائل درپیش ہوں  –  خواہ ہم اس سفر کے کسی بھی مرحلے پر ہوں۔

اگرہمیں فی الحال دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو تو ہمارے لیے تعاون کا حصول مشکل ہوسکتا ہے اور اگر ہم زیادہ تر وقت میں صورتحال کے ساتھ اچھی سے طرح  نمٹ سکتے ہوں تو ہمارے لیے مقابلہ کرنے کے لیے معمول کے طریقوں پر عمل کرنا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔ اگر فی الوقت آپ کے لیے صورتحال کا سامنا کرنا مشکل ہو رہا ہو تو مہربانی فرما کر ہیلپ لائنوں اور وسائل کی فہرست تلاش کرنے کے لئے یہ صفحہ ملاحظہ فرمائیں۔

ہم میں سے ان افراد کے لیے جنہیں اپنی زندگی کے دوران ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے  کوویڈ 19 ایک بہت بڑا مسئلہ کیوں ہوسکتا ہے؟

تاسف کی بات ہے کہ ہم میں سے وہ افراد جنہیں زندگی میں ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا ہوتا ہےان کے لیے عدم مساوات  اور صحت کے چیلنجوں کا سامنا کرنے  کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔  ہمیں الگ تھلگ رکھے جانے کازیادہ امکان ہوتا ہے، ہم صحت کی دیگر مشکلات کے خطرے سے زیادہ دوچار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہم کوویڈ-19 کا شکار ہوجاتے ہیں اور  اکثر اوقات بہترین وقت پر بھی ہمارے لیے مدد طلب کرنا اور اس کو حاصل کرنا مشکل لگتا ہے۔

بسا اوقات ہماری زندگیوں اور وبائی مرض کی میڈیا رپورٹنگ پر پابندیاں ہماری دماغی صحت یا دیگر اقسام کے صدمات کے تجربات سے متصادم ہو سکتی ہیں۔ اگر ماضی میں ہمارا واسطہ پولیس یا فوجداری انصاف کے نظام سے پڑ چکا ہو یاہمیں ہسپتال میں زیر حراست رکھا گیا ہو تو اس میں اور بھی اضافہ ہو سکتاہے۔ 

ہم اپنے معمول کے امدادی نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرنے، دوستوں سے ملاقات کرنے یا اپنے ہم خیال سپورٹ / سیلف ہیلپ گروپ میں جانے کے قابل نہیں ہوسکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ گھر ایک محفوظ جگہ نہ ہو۔  سروسز پر دباؤ ہے اور پیشہ ورانہ تعلقات جو کہ اکثر اوقات ہماری زندگی کی بنیاد ہوتے ہیں اس وقت بدل رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہمارے لیے مدد کا حصول  تبدیل ہو گیا ہو، اور ہم شناسا امدادی عملے کو دیکھنے سے قاصر ہوں۔

ہمیں محسوس ہو سکتا ہے کہ ہمارے خدشات یا ہماری ذہنی صحت کی کوئی خرابی ہمارے پیاروں، ہمارے امدادی نظام اور این ایچ ایس کے لیے اضافی بوجھ بن رہی ہو۔

ہم جو کچھ بھی محسوس کریں یہ ایک قابل فہم اور متوقع امر ہے کہ دنیا پر طاری یہ ایک مشکل دور ہمارے اوپر برے اثرات مرتب کرے گا۔

ہم اس وقت اپنی ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے کونسے اقدامات بروئے کار لانے کی کوشش کر سکتے ہیں؟

اس وقت دماغی صحت سے متعلق بہت سےمشورے شیئر کیے جا رہے ہیں جو کہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہم جیسے بہت سے افراد کے لیے مفید مطلب ہیں۔ 

ذیل میں بغرض آغاز تجاویز فراہم کی گئیں ہیں۔ ہم جو بھی بندوبست کر سکیں  جو کہ  درست محسوس ہو کافی اچھا ہو گا۔

  •  جب ممکن ہو سکے بنیادی کام کرنے کی کوشش کریں۔

کھانا، سونا، چلنا پھرنا(اندر یا باہر) اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ہم ہائیڈریٹڈ [آبیدہ ] رہیں  یہ زندگی کی بنیادی ضروریات ہیں اور ہماری ذہنی صحت کے لئے اہم ہیں – لیکن اس وقت ایسےمعاملات بہت زیادہ بوجھل محسوس ہوسکتے ہیں۔  

  • یہ بات تسلیم کرنے کی کوشش کریں کہ آپ معاونت کے  مستحق ہیں۔

مدد طلب کرنا م دشوار ہے اور یہ یقین کر لینا مشکل ہے کہ آپ لوگوں کے وقت کے مستحق ہیں۔ اس  بات پر یقین کرنا بھی مشکل ہے کہ آپ کے پاس دوسروں کو پیش کرنے کے لیے کچھ دستیاب ہیں۔  آپ مدد کے مستحق ہیں۔ اپنے ساتھ مہربانہ برتاؤ  کرنے کی کوشش کریں۔ اپنی ذات سے ہمدردی ہمیشہ ضروری ہوتی ہے  –  اگرچہ یہ  کام مشکل ہوسکتا ہے۔ 

  • اپنی معاون ٹیم اور پیشہ ور افراد کے ساتھ مل کر پلان بنانے کی کوشش کریں۔ 

اگر آپ کو ذہنی صحت کی خدمات یا دیگر تنظیموں کا تعاون حاصل ہو تو ان سے دریافت کریں کہ جب ہم عالمگیر وباء سے گزررہے ہیں تو معاملات کس طرح تبدیل ہوں گے۔  اگر ہو سکے تو آپ کو جس چیز کی بھی ضرورت ہو  اس کو طلب کریں۔  اگر آپ خود کو مشکلات کی وضاحت کرنے کے قابل محسوس نہ کرتے ہوں تو اس بات کا جائزہ لیں کہ آیا کوئی دوست یا کنبے کا کوئی فرد اس کی وضاحت کرنے میں آپ کو  مدد فراہم کرسکتا یا اس کو تحریر کرلینے  کی کوشش کریں۔  

  •  امدادی حلقہ افراد اور آلات پر مشتمل ایک گروپ ہوتا ہے جسے آپ مشکل اوقات میں اپنے ارد گرد جمع کر لیتے ہیں۔  اس میں عملی یا جذباتی مدد  شامل ہوسکتی ہے۔ امدادی حلقہ ذاتی یا ڈیجیٹل  صورت میں ہوسکتا ہے  –  جیسا کہ واٹس ایپ گروپ۔
  • یہاں تک کہ اگر مشکل بھی محسوس ہو تو بھی رابطے بنانے اور انہیں برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔

ہم میں سے بیشتر افراد کو اکیلے اور دوسروں کے ساتھ رہنے کے لیے ایک توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے آپ کو بذریعہ جبر اپنی ذات تک ہی محدود رکھنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے جبکہ دیگر افراد کے ساتھ روابط ہماری ذہنی صحت کے لئے بہت اہم ہوتے ہیں۔ 

لوگوں کے ساتھ آن لائن یا فون پر رابطہ کرنے کے قابل ہونا حقیقت میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے  –  لیکن یہ بوجھل یا پریشان کن بھی ہو سکتا ہے۔ یہ معلوم کرنے پر وقت لگ سکتا ہے کہ مختلف ایپس یا آن لائن ٹولز کس طرح کام کرنے ہوں گے اوران میں سے کون سے آپ کے لئے صحیح ہیں (اگر کوئی ہوں تو)۔  

  • مقابلہ کرنے کے بارے میں  اپنے ماضی کے تجربات پر انحصار کرنے کی کوشش کریں۔ 

اگر آپ کو ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے تو اس بات کا  امکان ہے کہ آپ ایسے ادوار سے گزر چکے ہوں گے جن میں آپ کو الگ تھلگ یا اکیلا چھوڑ دیا گیا ہو یا مشکل سے دوچار کر دیا گیا ہو۔ آپ نے ماضی میں جس چیز کا مقابلہ کیا ہو گا اس نے آپ کو ورط حیرت میں ڈال دیا ہو گا۔  اب وقت آگیا ہے کہ ان اوقات کو یاد کریں اور ان سے سبق حاصل کریں۔   اپنے لئے ہر روز کوئی اچھا سا کام کرنے کی کوشش کریں اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر جشن منائیں  –  چاہے یہ اپنے بالوں کو دھونے کا سادہ سا معاملہ ہو یا باہر جا کر چہل قدمی کرنا۔

  • اپنی رائے کا اظہار کرنے کی کوشش کریں  –  دوسروں کےروبرو اوراکیلے میں بھی۔ 

وہ خیالات جنہیں ہم محسوس کرتے ہیں مشکل دور میں ان کا اظہار کرناہمیں دشوار لگتا ہے۔  ان کو اگل دینا مفید مطلب ہو سکتا ہے  –  چاہے ہم شیئر کریں یا نہ کریں۔   اگر آپ کے پاس ایسے لوگ موجود ہوں جن پر آپ اعتماد کرسکتے ہوں تو یہ بہت اچھا ہے لیکن اگر آپ اعتماد نہ بھی کرتے ہوں تو بھی چیزوں کو لکھ لینا اور بعد ازاں ان پر نظر ثانی کرنا حقیقت میں مفید ہو سکتا ہے۔  کچھ لوگوں کے لیے اپنے پاس ان چیزوں کے بارے میں ایک تحریری نوٹ رکھ لینا جن کے لئے وہ شکر گزار ہوں یا ایسی چیزیں جو انہوں نے سیکھی ہوں خواہ وہ ہو کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہوں مدد گار ہوتا ہے۔ 

  • خبر کے ساتھ اپنے تعلق کو محدود رکھنے کی کوشش کریں۔ 

یہ ساری خبریں کورونا وائرس سے متعلق ہیں اور ان  کی وجہ سے ہماری پریشانیوں یا غور و فکر میں اس وقت اضافہ ہوسکتا ہے جب ہم اپنے دماغ میں اپنی ہر سو‎چ کو بار بار لاتے ہیں۔   اگر یہ امر آپ کے لئے کسی پریشانی کا سبب بنےتو پھر دن میں ایک ہی نیوز بلیٹن  ملاحظہ فرمائیں یا پڑھیں اور اس کے بعد اس کو بند کر کے دیگر کام شروع کر دیں  –  اگرچہ ہم سب کے لئے یہ ایک مشکل وقت ہے۔  

  • حالات سے مکمل طور پر باخبر رہنے کی کوشش کریں۔ 

ہم میں سے زیاد تر افراد کے ذہنوں میں ماضی کی یادیں موجود ہوتی ہیں جو ہماری موجودہ زندگی بسر کرنے کے طریقے کو متاثر کرتی ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو اس بات کی بھی فکر ہوتی ہے کہ مستقبل کے معاملات کس طرح سے طے پائیں گے۔  ہماری زندگیوں اور منصوبہ بندی کو سمجھنے کے حوالے سے دونوں باتیں اہم ہیں  –  لیکن جب تک کورونا وائرس کی پابندیاں موجود ہیں موجودہ حالات میں زندگی بسر کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر ہو سکے تو درپیش مسائل ہی کے ساتھ نمٹیں۔ 

اس کا مطلب ماضی کا احترام کرنا اور اس کی اہمیت کو سمجھنا ہے لیکن ہر منٹ، گھنٹے اور دن کو ایک نئے موقعے کے طور پر بسر کرنا پابندیوں کے خاتمے کی طرف ایک اور قدم ہے۔   

اگر ہم اپنے آپ کو معاف کرنے اور اپنی دیکھ بھال کرنے کے لئے کام کر سکیں تو اس سے ہمیں مدد ملے گی۔ دوسری سمت میں جانے کا یہی واحد راستہ ہے۔  

  • اگر آپ استطاعت رکھتے ہوں تو اپنی برادری کا حصہ بننے اور  اس کی مدد کرنے کی کوشش کریں۔ 

اگر آپ بہتر محسوس کریں  تو مدد کرنے کے لئے معاشرے میں چند ایک مصروفیات  دستیاب ہوسکتی ہیں  –  خاص طور پر اگر آپ گھر پر موجود ہوں۔ پڑوسیوں کے کتوں کو چہل قدمی کروانا، کھانا مہیا کرنے میں مدد فراہم کرنا یا مقامی معاشرتی اقدامات کے لئے رضاکارانہ خدمات پیش کرنا احسان چکانے کا ایک عمدہ طریقہ ہوسکتا ہے۔  

This translation was funded by Foundation Scotland and the National Emergencies Trust and distributed by the Scottish Refugee Council.